Thursday, 24 October 2013

کریلا اور گھیا کدو کے فواید

کریلا


*Momordica charantia*

کریلاجس کا حیاتیاتی نام: Momordica charantia) ہے
کریلا موسم گرما کی ایک اہم اور مقبول ترین سبزی ہے۔ کریلا اپنی طبعی خصوصیات کی بناءپر بہت افادیت کا حامل ہے۔ یہ مختلف بیماریوں مثلاً نظام انہظام کی خرابی، ملیریا، چکن پاکس، زیابیطس اور کینسر جیسی مہلک بیماریوں کے خلاف جسم میں قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔ کریلا پنجاب کے قریباً تمام اضلاع میں کاشت کیا جاتا ہے۔ 2011-12کے دوران پنجاب میں کریلا 992ایکڑ رقبہ پر کاشت کیا گیا اور اس سے 117من فی ایکڑ کی اوسط پیداوار سے مجموعی طور پر تقریباً 44ملین ٹن پیداوار ریکارڈ کی گئی۔ معتدل آب و ہوا کریلے کی کاشت کے لیے موزوں ہے ۔ پنجاب میں اس کی کاشت عموماً فروری سے جولائی تک ہوتی رہتی ہے۔ اسکے بیج کے اگاو کیلئے 30-25 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پنجاب کے وسطی اور جنوبی اضلاع فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، رحیم یار خان، بہاولپور، بہاولنگر، ملتان، اور وہاڑی سبز کریلے کیلئے موزوں ہیں۔ جبکہ پنجاب کے شمالی اضلاع شیخوپورہ، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، اوکاڑہ اور حافظ آباد سبز کریلے اور بیج پیداکرنے کیلئے موزوں ہیں۔کریلے کی کاشت کیلئے زرخیز میرا زمین جس کی تیزابی خا صیت 7یا اس سے کم ہو اور جس میں پانی کا نکاس اچھا ہوبہترین ہے۔ زمین میں نامیاتی مادہ کی مقدار میں مناسب اضافہ کیلئے فصل کاشت کرنے سے کم از کم ایک ماہ قبل10تا 12 ٹن فی ایکڑ کے حساب سے گوبر کی گلی سڑی کھاد ڈال کر مٹی پلٹنے والا ہل چلائیں تاکہ زمین زیادہ گہرائی تک نرم جا سکے اور اگر پہلے سے کوئی فصل کاشت کی گئی ہو تو اُسکے مڈھ جڑوں سے اُکھڑ جائیں اور گل جانے پر نامیاتی مادے میں اضافہ کا سبب بن سکیں۔ کھیت کو ہموار کرکے کیاریوں میں تقسیم کر لیں اور راونی کردیں۔ وتر آنے پر دو یا تین بار سہاگہ چلا کر زمین کو اچھی طرح نرم اور بُھر بُھرا کر لیں۔ داب کے طریقے سے جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے کیلئے چند دن کیلئے چھوڑ دیں۔”فیصل آباد لانگ“ محکمہ کی سفارش کردہ قسم ہے اور اسی کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس قسم کے پودوں کا رنگ ہلکا سبز ہوتا ہے اور یہ قسم جلد پک کر تیار ہو جاتی ہے۔ کریلے کی کاشت وسط فروری سے اپریل تک کی جاتی ہے اور یہ مئی سے ستمبر تک پھل دیتی ہے۔پچھیتی فصل جون ، جولائی میں کاشت کی جاتی ہے اور اس فصل کا پھل عموماً اگست سے نومبر تک حاصل ہوتا ہے۔بیج کی شرح کا دارومدار قسم کے اگاوپر ہوتا ہے۔اچھی روئیدگی والا 2.0 تا2.5 کلوگرام بیج فی ایکڑ کافی ہوتا ہے۔ اگر بیج کی روئیدگی اتنی خاطر خواہ نہ ہو تو پھر 4.5-3.5 کلوگرام فی ایکڑ شرح بیج مناسب ہوتی ہے۔کریلے کی بوائی کے وقت 3بوری سنگل سپر فاسفیٹ ، ایک بوری امونیم نائٹریٹ اور ایک بوری پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔ پھُول آنے پر آدھی بوری یوریا فی ایکڑ استعمال کریں۔ بعدازاں ہرتین چنائیوںکے بعد آدھی بوری یوریا فی ایکڑ ڈالتے رہیں۔تیار شدہ زمین پر 2.5میٹر پر لگے ہوئے نشانوں کے دونوں طرف مندرجہ بالا تناسب سے کھاد بکھیر دیں اور بعد میں پٹڑیاں بنائیں۔ پٹڑیوں کی نالیاں½ میٹر چوڑی رکھیں۔پٹریوں کے دونوں طرف کناروں پر تقریباً 45سینٹی میٹر کے فاصلے پر دو سے تین بیج 3سینٹی میٹر گہرے بوئیں اور کھیت کی آبپاشی کر دیں۔ بیج کو کاشت سے پہلے پھپھوندکش دوائی بحساب 3-2گرام فی کلوگرام بیج لگائیں۔پہلی آبپاشی کاشت کے فوراً بعد کریں اس کے بعد ہفتہ وار آبپاشی کرتے رہیں۔ جب موسم گرم ہو جائے تو آبپاشی چار دن کے وقفہ سے کریں یا پھر ضرورت کے مطابق کریں۔ چونکہ کریلے کی فصل موسم گرما کی فصل ہے اس لئے اس کی آبپاشی کے سلسلہ میں غفلت نہیں برتنی چاہیے جتنی زمین ٹھنڈی رہے گی اتنے ہی پھول زیادہ آئیں گے اور پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ تجربات سے پتہ چلا ہے کہ اگر بیج 12گھنٹے پانی میں بھگو کر کاشت کیا جائے تو دوسری آبپاشی پرہی سو فیصد اگاوہو جاتا ہے۔جب فصل اُگ جائے اور تین پتے نکال لے تو چھدرائی کرکے ہر جگہ صحت مند پودا چھوڑ کر فالتو پودے نکال دیں۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے گوڈی کریں۔ پودوں کو مٹی بھی چڑھا دیں۔فصل کو جڑی بوٹیوں سے صاف رکھنے کیلئے جب بھی ضرورت ہو گوڈی ضرور کرلیں ورنہ پیداوار متاثر ہو گی۔

گھیا کدو
گھیا کدو موسم گرما کی ایک اہم اور انتہائی مفید سبزی ہے۔ پاکستان میں وسیع رقبہ پر کاشت کیا جاتا ہے۔ پنجاب کے مختلف اضلاع میں کاشت کیا جاتا ہے ۔پنجاب میں 2011-12کے دوران گھیا کدو 5504ایکڑ رقبہ پر کاشت کیا گیاع جبکہ پیداوار 27842ملین ٹن ریکارڈ کی گئی۔ گھیا کدو کی اوسط پیداوار تقریباً 136ملین ٹن فی ایکڑ ہے۔ غذائی اعتبار سے گھیا کدو میں نشاستہ، چکنائی، کیلشیم، آئرن، فاسفورس اور حیاتین کے اجزاءپائے جاتے ہیں۔ گھیا کدو کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے اور یہ شوگر، بلڈپریشر، دل، جگر، پھیپھڑوں، کھانسی اور دمہ کے امراض کو کنٹرول کرنے میں بہت مفید ہے۔ میدانی علاقوں میں عام طور پر گھیا کدو کی تےن فصلےں کاشت کی جاتی ہےں۔ پہلی فصل فروری/مارچ ، دوسری جولا ئی/ اگست میں جبکہ تےسری فصل اکتوبر کے آ خر ےا نومبر کے شروع مےں کاشت کی جاتی ہے۔ اکتوبر نومبر میں کاشت ہونے والی فصل کو کہر کے اثر سے محفو ظ کرنے کے لیے سرکنڈے وغےرہ کے چھپر استعمال کیے جاتے ہےں۔ اس کے علاوہ پہا ڑوں پر اس کی کاشت اپرےل اور مئی مےں کی جاتی ہے۔اسکی عام طور پر دو اقسام کاشت کی جاتی ہیں۔ ایک قسم گول اور دوسری لمبی ہوتی ہے جسے لوکی بھی کہتے ہےںجو زیادہ ترپہاڑی علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے۔ ترقی دادہ اقسام مےں فےصل آباد گول زےادہ پےداوار دےنے والی قسم ہے۔اچھی روئیدگی والا دو سے اڑھائی کلوگرام بیج ایک ایکڑکے لیے کافی ہوتا ہے۔زرخیز میرا زمین جس میں نامیاتی مادہ وافر مقدار میں موجود ہو اور پانی دیر تک جذب رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہو موزوں ہے۔ تھور اور سےم زدہ زمےنو ں مےں اسے کاشت نہےں کرنا چا ہئے۔بوائی سے ایک ماہ پہلے 10سے15ٹن گوبر کی گلی سڑی کھاد ڈال کر زمےن مےں اچھی طرح ملا دیں اوربعدمیں کچی راونی کردیں وتر آنے پر زمین میں ہل اورسہاگہ چلائیں۔ اس طرح کھیت میں موجود جڑی بوٹیوں کے بیج اُگ آئیں گے جو کاشت کے وقت زمین کی تیاری کے دوران آسانی سے تلف کیے جاسکتے ہیں۔ بوائی کے وقت تین سے چاربار ہل اور سہاگہ چلائیں تاکہ زمین نرم اور بھربھری ہو جائے۔ زمین کا ہموار ہونا بہت ضروری ہے۔ زمین کی تیاری کے بعد کھیت میں 3 سے4میٹر کے فاصلے پر ڈوری سے نشان لگائیں اور ان نشانوں کے دونوں اطراف چار بوری سنگل سپر فاسفیٹ ، ایک بوری امونیم سلفیٹ اور ایک بوری پوٹاش ےا ڈیڑھ بوری ڈی اے پی اور ایک بوری پوٹاش فی ایکڑ ملا کر ڈال دیں۔ بعد ازاں نشانوں سے مٹی اٹھا کر پٹڑیاں بنائیں ۔ اس بات کا خاص طور پر خیال کریں کہ پٹڑیوں کے درمیان والی نالی 40 سے50 سینٹی میٹر چوڑی اور 20 سے 25 سینٹی میٹر گہری ہو۔ اس طرح زمین کاشت کیلئے تیار ہو جاتی ہے۔پٹڑی کے دونوںکناروں پر50-40سینٹی میٹر کے فاصلہ پر دو دو بیج مناسب گہرائی پر بذریعہ چوکا لگائیں۔ اگر کاشت سے 10-8 گھنٹے قبل بیج کو پانی میں بھگو دیں تو اسکا اگاوبہت اچھا ہو جاتا ہے۔ پہلا پانی کاشت کے فوراً بعد لگا دیا جائے اور خیال رکھیں کہ پانی بیج کی سطح سے اوپر نہ جائے وگرنہ کرنڈ کی وجہ سے بیج کا اُگا ومتاثر ہوگا۔ اگر آبپاشی شام کے وقت ہو تو اس کا بہت فائدہ ہوتا ہے اس کے بعد ایک ہفتہ کے وقفہ سے آبپاشی کرتے رہیں۔ بارش ہونے کی صورت میں آبپاشی کا دورانیہ بڑھایا جا سکتا ہے۔ اُگنے کے بعد جب فصل تین چا ر پتے نکال لے تو ہر جگہ ایک صحت مند پودا چھوڑ کر باقی پودے نکال دیں۔فصل کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھنے کیلئے مختلف اوقات میں تین چار مرتبہ گوڈی کریں۔ ہر تیسری یا چوتھی چنائی کے بعدایک بوری امونیم نائٹریٹ یا آدھی بوری یوریا نالیوں میں بکھیر کر گوڈی کرنے اور مٹی پودوں کی جڑوں کے ساتھ لگاکر آبپاشی کرنے سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتاہے۔

 موسم گرما کی سبزیاں کاشت کرکے کاشتکار معاشی استحکام کےحصول کو ممکن بنا سکتے ہیں کیونکہ سبزیوں کی قیمت دیگر فصلات کی نسبت زیادہ ملتی ہے اور جلد پیداوار حاصل ہونے سے فصل کے کاشتی دیکھ بھال کے اخراجات بھی ساتھ ساتھ پورے کئے جا سکتے ہیں۔
اس مضمون کی تیاری میں تحقیقاتی کتب کی مدد لی گئی تاکہ عوام الناس کو فائدہ حاصل ہو۔

Friday, 11 October 2013

ٹماٹر آپ کامعالج بھی ہے


ٹماٹر ویسے تو ایک عام اور معصوم سبزی میں استمال ھونے والا پھل ھے۔جی ہاں ٹماٹر ایک پھل جو روز ہم کسی نہ کسی طریقہ سے کھاتے ہیں۔آج ٹماٹر کی خصوصیات کا زکر کرتے ہیں۔جن سے آکسرھم واقف نہیں، یونیورسٹی آف کیلوفرنیا کی تحقیق کے مطابق ٹماٹر کینسر جیسے موزی مرض میں نہایت مفید ھے۔ٹماٹر انٹی اکسیڈ ینٹ بھی ھے اگراللہ نہ کرے کسی کا اکسیڈ ینٹ ھو جائے تو اسے ٹماٹر کا جوس کا دیں تو مریض بہت جلد صحت یاب ھوجائے گا۔اس لیئے کہ ان میں وٹامن اے اور وٹامن سی کی بہت اچھی مقدار پائی جاتی ھے۔ خون میں موجود فریریڈیکلزکونیوٹرلائزکرتے ہیں،بصورت دیگریہ خون میں موجود فریریڈیکلزخلیات کونقصان پہنچاسکتے ہیں،
*ٹماٹرکو کچابھی کھانا چاہیےاس لئے کہ اس کو پکانےسے اس میں موجود وٹامن سی کی مقدار ضایع ہوسکتی ہے۔
*ٹماٹر میں ایک خاص قسم کا قدرتی معدن کرومیم بھی پایا جاتاہےجوزیابیطس کےمرض میں مبتلا مریضوں میں بلڈشوگر کو قابو میں رکھتا ہے۔
*ٹماٹرسیگریٹ استمال کرنےوالوں کیلئے بھی بے حد
مفید ہے،
*ٹماٹرمیں موجود وٹامن اےنظر کودرست رکھنے میں بھی معاون ومددگارہے،
*ٹماٹرمیں موجود وٹامن بی بلڈپریشراورکولیسٹرول کی سطح کو کمتر رکھنے میں نہیایت مفید ہے اس لیے کی کہ فالج،دل کے دورے اور دیگر خطرناک مسائل سے بچاکر رکھتا ہے،
*ٹماٹرآپ کی جلد کی حفاظت بھی کرسکتا ہے،اس میں موجود لائیسوپین نامی مادہ جلد کی بہترین حفاظت کرتا ہے۔اسکے لیے آپ یہ بھی کرسکتے ہیں کہ دس بارہ ٹماٹروں کا چھلکے اتار کر چہرے پر بچھادیں یہ عمل آپ دس تا پندرہ منٹ تک جاری رکھے اس کے بعد چہرے کو تازہ پانی سے دھو لیں آپ دیکھ سکتے ہیں اس سے آپ کا چہرہ ترو تازہ اورنکھر جائے گا،
*ٹماٹر بالوں میں سفیدی روکنے میں اور دانتوںاور ہڈیوں کے لیے بھی مفید ہے،
*ٹماٹر اگر کچا اوربیجوں کےبغیر کھایا جائے تو اس سے پتے اور گردے کی پتری کے خطرے کو کم کرتا ہے،
*ٹماٹروں پر متعددتحقیق کے بعد یہ بھی بات سامنے ائی ہے کہ آئسوپین مردوں غدودوں کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے،


Thursday, 10 October 2013

بےکار کو کارآمد بنائیں

گھر میں بہت سی بےکار اشیاء ھوتی ہیں جسے آپ تھوڑی توجہ دیکر قابل استمال بنا سکتےہیں۔جس پلاسٹک کی بوتلیں ۔ٹوٹے ہوئے گھی کے ڈ بے اور بہت سی اس سے ملتی جلتی ۔آپنے یہ دیکھنا ھے کہ گھر کا کون سا حصہ باغبانی کیلئے منتخب کیا جاسکتا ھے۔ 

x

Friday, 4 October 2013

سستا مواد کا استعمال کرتے ہوئےگھریلو باغبانی

Indoor Garden Using Inexpensive Materials
video
سستا مواد کا استعمال کرتے ہوئےگھریلو باغبانی 

Tuesday, 1 October 2013

پودوں سےگھربھی سجایئں اور مچھروں کو بھی بھگائیں

زمانہ قدیم سے یہ حقیقت سبھی جانتے ہیں کہ قدرت نے نیم کے درخت میں بہیت سے طبی، زراعتی اور ماحولیاتی فوائد رکھے ہیں اور انہی فوائد کو جدید تحقیق نے بھی ثابت کیا ہے۔ نیم کے اجزاء کئی ادویات کئے علاوہ دیگر مصنویات بنانے کے بھی کام آتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ نیم کا درخت مچھروں کو بھگانے کا بھی ایک قدرتی ذریعہ ہے۔
نیم کے درخت کے ارد گرد مچھر نہیں ہوتے اور اسی وجہ سے ڈینگی کے خاتمے کیلئے اسے انتہائی کارآمد تصور کیا جاتا ہے۔ نیم کا درخت ماحول پر مثبت طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ درخت دن کے اجالے میں دیگر درختوں کے مقابلے میں زیادہ آکسیجن خارج کرتا ہے اور فضا کو وسیع پیمانے میں آلودگی سے صاف رکھتا ہے۔ نیم کی یہی افادیت کوار گندل (ایلو ویرا) میں بھی موجود ہے، جو رات کو وسیع پیمانے پر آکسیجن خارج کرتا ہے جس سے اردگرد کی فضاء آلودگی سے صاف رکھتی ہے۔ مختصر یہ کہ انسانی صحت کے لئے نیم کا درخت اور ایلو ویرا کا پودا قدرت کی بیش بہاء نعمتیں ہیں۔
کیڑے مکوڑوں سے نجات کیلئے استعمال ہونے والے پودوں میں حبشی پودینہ (ہورس منٹ پلانٹ) کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس پودے کی خوشبو سے مچھر پریشان ہو کر دور بھاگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حبشی پودینہ کو صدیوں سے مکھی مچھر کو دور رکھنے کے لئے استعمال کیاجا تا ہے۔ اس پودے کو صحن میں لگانے یا کمرہ میں اسکا گملا رکھنے سے مچھر آپ کے قریب نہیں آئے گا۔
گیندے کا پودا یعنی میری گولڈ بھی اپنے بھول کی خوبصورتی اور کیڑے مکوڑوں کو دور رکھنے میں انتہائی معاون ثابت ہوتا ہے۔ گیندے کے پھول کی خوشبو بھی مچھروں کو پسند نہیں، اسلئے مچھروں سے چھٹکارا پانے کے لئے اسے چھوٹے کنٹینرز، گملوں، صحن یا مرکزی دروازے کے دونوں اطراف لگانے سے مچھروں کو گھر میں داخل ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ گلِ مینا کی نسل سے تعلق رکھنے والا سدا بہار کا پودا بھی اپنی خوشبو اور خاموش نیلے اور سفید پھولوں کے باعث مکھی مچھروں کیلئے نفرت انگیز سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مچھر اس پودے کے اردگرد بھی نہیں پھٹکتے۔
اس کے علاوہ گن گھاس یا سیٹرونیلا پلانٹ گھاس کی ایک خوبصورت قسم ہے اور اسے بھی مچھروں سے بچاؤ کیلئے انتہائی کارآمد تصور کیا جاتا ہے۔ یہ پرکشش، تروتازہ اور خوبصودار اونچی گھاس گھریلو باغیچوں میں لگانے سے بھی مچھروں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔
نیلے پھولوں سے سجا سنبل بری یا ’’کیٹنپ‘‘ نامی پودا بھی اسی مقصد کیلئے انتہائی کارآمد تصور کیا جاتا ہے، بلکہ بعض ماہرین نے اسے سب سے زیادہ طاقتور مچھر بھگاؤ پودا قرار دیا ہے اور حالیہ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سنبل بری مچھروں کے خلاف کیمیاوی اسپرے کے مقابلے میں ۱۰ گنا زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس پودے کے بلیوں پر بھی نشہ آور اثرات دیکھے گئے ہیں۔
ان پودوں کے علاوہ کلیل کوہستانی یا روز میری کو بھی تزئین و آرائش کے علاوہ قدرتی طور پر مچھروں کیلئے نفرت انگیز سمجھا جاتا ہے۔ خوبصورت پھولوں سے بھرا یہ پودا خوشبو میں اپنی مثال آپ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دیہی اور شہری علاقوں میں کیڑے مکوڑوں اور خاص طور پر مچھروں سے تحفظ کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت ان پودوں کی گھر گھر شجرکاری سے متعلق آگاہی کا پروگرام تشکیل دیا جاسکتا ہے، جس کی مدد سے ڈینگی مچھر اور وائرس سے مستقل چھٹکارا حاصل کرنا ممکن ہے۔ موسم گرما میں مچھروں کی بہتاب ہوتی ہے اور ایسے میں ان پودوں کو زمین یا گملوں میں باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب فکر انگیز بات یہ ہے کہ حکومت خاص طور پر پنجاب حکومت کیمیاوی اسپرے پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ڈینگی مچھر پر قابو نہیں پا سکی، بلکہ ماہرین کا تو یہ کہنا ہے کہ کیمیاوی اسپرے کی وجہ سے مچھر دشمن اور مچھر خور دیگر حشرات بھی ختم ہورہے ہیں۔ ایسے میں حکومتی سطح پر سڑکوں کے کنارے نیم کے درخت کی شجرکاری کرنے سے ڈینگی مچھر اور وائرس سے مستقل چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔